حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تعمیر و ترقی اتحاد کے سربراہ محمد شیاع السودانی نے آج بدھ کے روز الحشد الشعبی کے مراکز کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراق کی خودمختاری پر حملہ ہے۔
السودانی نے اپنے بیان میں کہا کہ"ہم عراق میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے سعودی۔امریکی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اسلامی اخوت کے اصول پر خطرناک حملہ، نیز بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق اپنی سرکاری ریاستی پالیسی کے تحت پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایسے میں اس حملے کا وقت کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب عراقی حکومت نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر عراق سے ڈرون حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ عراق مسائل کو قانونی اور ادارہ جاتی طریقوں سے حل کرنا چاہتا ہے، نہ کہ فوجی کشیدگی بڑھا کر۔
السودانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراق اپنی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عراق کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ